ابنا: شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ میں چار پولیس کمانڈوز بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اطلاعات ہیں کہ دسیوں دکانوں کے ساتھ ساتھ نجی اور سرکاری گاڑیوں کو نذر آتش کردیا گيا ہے۔ ان دنوں جو ماہ مبارک رمضان کے پرفیض ایام ہیں شہر کراچی پر موت اور دہشت کے عفریت کا بھیانک سایہ چھایا ہوا ہے جس سے عوام پریشان ہیں۔ کراچی کے عوام عید کی تیاریاں کرنے کےبجائے عزاداری کا سامان مہیا کررہےہیں کیونکہ انہیں نہیں معلوم ہے کہ اگر وہ گھر سے نکلیں تو زندہ واپس بھی آپائيں گے یا نہیں۔ گذشتہ چند دنوں میں سیکڑوں لوگوں کو اپنے عزیزوں اور دل کے ٹکٹروں کا داغ دیکھنا پڑا ہے۔ کم نہیں ہیں ایسے ماں باپ جنہیں اپنے جگر کے ٹکڑوں کی لاشیں بوری میں ملی ہیں۔ کراچی والوں کی عید فطر لگتاہے عزاداری میں بدل چکی ہے۔ کراچی میں سرگرم عمل دہشتگردوں اور ان کے حامیوں نے چنگيز اور ہٹلر کو بھی شرمندہ کردیا ہے۔ یہاں سب سے اہم سوال یہ ہےکہ پاکستان کے اصحاب اقتدار جیسے حکومت اور فوج آخر کراچی میں جاری قتل عام کے خاموش تماشائي کیوں بنے ہوئے ہیں؟ آخر وہ کیوں اس قتل و غارت گری کو نہیں روکتے؟ کیا ان کے پاس طاقت نہیں ہے؟ جی نہیں ایسا نہیں ہے اگر فوج یا حتی پولیس ارادہ کرلے تو ایک ہفتے سے کم میں کراچی میں بدامنی پھیلانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچا سکتی ہے لیکن ایسا نہیں ہورہا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہےکہ اقتدار کے حلقے جو مختلف پارٹیوں سے تشکیل یافتہ ہیں انہیں بھلا ایک دوسرے کا خیال تو رکھنا ہی ہے ناں؟ اگـر دہشتگردی کے خلاف سنجیدہ اقدامات کئے جائيں تو حکومت میں شامل بعض پارٹیاں حکومت سے علیحدگي کی دھمکیاں دینے لگتی ہیں۔ دراصل کراچی کے نہتے عوام سیاسی پارٹیوں کے مذموم اھداف کی بھینٹ چڑھائے جارہے ہیں۔ ہرسیاسی پارٹی بندوق کے زور پر کراچي کو قبضے میں کرنے کی کوشش کررہی ہے اور اسی کشمکش میں بیچاری پبلک ماری جاری ہیں۔ کراچي کے مسائل میں ہم امریکہ اور برطانیہ کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کرسکتےگرچہ کچہ داخلی عناصر جنہوں نے بوڑھے سامراج کی آغوش میں پناہ لی ہوئي ہے وہ بھی ایک طرح سے سامراج کے ساتھ شریک جرم ہیں ۔ امریکہ اور برطانیہ پاکستان کو نابود کرنے کے درپے ہیں اور پاکستان کا بٹوارہ کرنا چاہتےہیں۔ پاکستان کو اس صورتحال سے بڑے پیمانے پر اقتصادی لحاظ سے نقصان ہورہا ہے۔ پاکستان میں صرف کراچی ہی زخمی ہے ، ایسا نہیں ہے اس سرزمیں کے انگ انگ سے خون رس رہا ہے۔ گذشتہ روز خیبر پختونخوا کی ایک مسجد میں خود کش بم دھماکہ ہوا تھا جسمیں چھپین روزہ دار نمازی جان بحق اور ایک سو دس زخمی ہوئےتھے، کیا یہ کام کسی مسلمان کا ہوسکتا ہے؟ کیا توحید کا دعوی کرنے والے اس طرح کے گھناونے اقدامات کرسکتےہیں؟ گرچہ کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن حملے کی نوعیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ طالبان ہی کا کام ہے ۔ وہ طالبان جو سعودی پیسے اور امریکی ٹریننگ کا نتیجہ ہیں۔ بے شک ایسے لوگ ہی ماہ مبارک رمضان میں نمازیوں کو دہشتگردی کا شکار بناسکتے ہیں۔ اس حملے میں صرف انسانوں کے ہی پڑخچے نہيں اڑے بلکہ قرآن مجید کے کئي نسخے بھی نذر آتش ہوگئے۔ یادرہے پاکستانی طالبان نے ہزاروں بچوں اور بچیوں کو اغوا کرکے ان کا برین واش کرکے انہیں خود کش حملوں کے لئے آمادہ کرلیا ہے اور اب تو یہ خود کش حملہ آور فروخت بھی کئے جاتے ہیں۔ بہت سے خود کش بمباروں کو تو یہ تک خبر نہیں ہوتی کہ ان سے کیا کام لیا جارہاہے ان مسکینوں کو لیس کرکے ہدف تک پہنچادیا جاتا ہے اور پھر ریموٹ کنٹرول سے انہیں اڑا دیا جاتا ہے۔یہ کونسا اسلام ہے؟ امام خمینی رح نے اس اسلام کو ا مریکی اسلام سے تعبیر فرمایا ہے اور یہ اسی کی شاخ ہے۔ پاکستان میں بدامنی کیسے نہ ہوگي جب پاکستان امریکی جاسوسوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے اور یہ جاسوس بھی خود کش حملہ آوروں کو استعمال کرنے میں طالبان سے پیچھے نہيں ہيں۔ رہبرانقلاب اسلامی نے حال ہی میں پاکستان کے صدر آصف زرداری سے ملاقات میں فرمایا تھا کہ اگر پاکستان اسلام کی طرف لوٹ آئے اور قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے لگے تو اس کے سارے مسائل حل ہوجائيں گے لیکن ۔۔۔۔۔
...........
/169